Khuli Kitab

My life is just like an open book. میری زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

اسکی گلیوں میں بار بار آیا

اسکی گلیوں میں بار بار آیا بیخودی میں اسے پکار آیا اسنے پاوٗں شباب میں رکھا میرے گیتوں پہ بھی نکھارآیا  جب بھی نظریں ملی ہیں ساقی سے بن پئے ہی مجھے خمار آیا وحشتِ دل مری بڑھی جب بھی نام سے اسکے ہی قرار آیا حاصلِ زندگی ہیں وہ لمحے اسکی محفل میں جو […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

یقین مہربلب ہے گمان بولتا ہے

  یقین   مہربلب    ہے   گمان    بولتا   ہے عجیب  بات  ہے جو  بے زبان  بولتا  ہے میں  چاہتا ہوں  وہ کہتا رہے ،  میں  سنتارہوں یہ کون   اسکے  مر ے   درمیان   بولتا   ہے یہ   زخم  جسکی  عطا تھی،  اسے  بھلا بھی دیا یہ   زخم  بھر  تو   گیا  ہے،   نشان  بولتا  ہے یہاں جو گذری قیامت  وہ […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

سب حسینوں سے جدا ہے

سب حسینوں سے جداہےمیرا دلبر دیکھنا دیکھنا کوئی نہیں اس کے برابر دیکھنا   دیکھنا میرا اسے یوں بیخودی میں دیرتک اسکا اک پل ہی سہی، مجھکو نظربھردیکھنا   بجلیاں نطروں میں ہیں زلفیں گھٹائوں کی طرح آگ لگتی ہے اسی موسم میں اکثردیکھنا   جب چلےگانازسےساحل پہ وہ نازک بدن چوم لےگانقش پا اس […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

کھیل باقی ہے چند چالوں کا

کھیل باقی ہے چند چالوں کا کوئی موقع   نہیں  سوالوں  کا دل پہ اک زخم اورسہتاہوں سینہ عادی ہوا ہے بھالوں کا  نظر آؤ امید کی کرنو آخری وقت ہے  اجالوں کا کسمپرسی  کے دور میں  کیسے کوئی ذمہ لےخستہ حالوں کا بال وپرمیں رہی نہیں حرکت خوف طاری ہےاتنا جالوں کا     […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

کہیں صحرا کہیں دریا پڑا ہے

کہیں صحرا کہیں دریا پڑا ہے وہی وحشت،وہی کچا گھڑاہے خلائوں کا سفر تم کو مبارک مجھے ہرشام گھر جانا پڑا ہے وہ خوددل کی عدالت میں تھاملزم سواپناکیس خوداس نے لڑاہے میں کیوں بیٹھاہوں اس پرسانپ بنکر مرے اندرخزانہ جو گڑا ہے ہواروشن کہ اپنارخ کدھر تھا طمانچہ وقت نے ایسا جڑا ہے برائےمصلحت […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

ہوش اپنے نہیں ٹھکانے پر

ہوش اپنے نہیں ٹھکانے پر اورالزام ہے زمانے پر جائیے گر تو پوچھتے ہی نہیں سرزنش کی گئی نہ آنے پر وہ بھی مشق ستم پہ آمادہ ہم بھی راضی ہیں تیر کھانے پر اختراعات کا جواب نہیں قابل داد ہر بہانے پر تیرگی خود ہی چھٹ گئی ورنہ ہم تھے تیار گھرجلانے پر طاق نسیاں پہ تھا چراغ […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

جھوٹا سچ یا سچا جھوٹ

ان کتابوں کو باندھ کر پتھر پھینک آئو کسی کویئں میں تم جو پڑھا تم نے ان کتابوں میں کیا تمھیں زندگی میں کام آیا سچ بتانا کہ سچ کے بارے میں  جھوٹ کتنا لکھا ہے لوگوں نے اور نتیجے میں کر دیا کالا صاف ستھرے سفید کاغذ کو سچ کی توقیر تھی بہت پہلے […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

منزلوں کے نشاں ہوئے پتھر

منزلوں کے نشاں ہوئے پتھر یعنی حاجت روا بنے پتھر جب بھی سستانے کا مقام آیا سر کے نیچے جما لئے پتھر بھول سے مڑ کے ہم نے کیا دیکھا ایک لمحے میں ہوگئے پتھر بوجھ دل پر بھی جوں کا توں ہی رہا عقل پر بھی پڑےرہے پتھر ہار کر رکھ لئے ہیں انساں […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

ذہن و دل میں خلا سا لگتاہے

ذہن و دل میں خلا سا لگتاہے لفظ بھی نارسا سا لگتاہے پیش خیمہ ہے ابتلا ئوں کا مسئلہ یوں ذرا سا لگتا ہے جب وہ ماحول خوشگوار کرے پھول خوشبو ہوا سا لگتاہے قتل کے بعد وارثوں کا سلوک قاتلو خوں بہا سا لگتاہے ہے کرشمہ یہ ذات واحد کا فرد ہر اک جدا […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

پچھلا صفحہ اگلا صفحہ