January, 2016

کھیل باقی ہے چند چالوں کا

کھیل باقی ہے چند چالوں کا کوئی موقع   نہیں  سوالوں  کا دل پہ اک زخم اورسہتاہوں سینہ عادی ہوا ہے بھالوں کا  نظر آؤ امید کی کرنو آخری وقت ہے  اجالوں کا کسمپرسی  کے دور میں  کیسے کوئی ذمہ لےخستہ حالوں کا بال وپرمیں رہی نہیں حرکت خوف طاری ہےاتنا جالوں کا     […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

کہیں صحرا کہیں دریا پڑا ہے

کہیں صحرا کہیں دریا پڑا ہے وہی وحشت،وہی کچا گھڑاہے خلائوں کا سفر تم کو مبارک مجھے ہرشام گھر جانا پڑا ہے وہ خوددل کی عدالت میں تھاملزم سواپناکیس خوداس نے لڑاہے میں کیوں بیٹھاہوں اس پرسانپ بنکر مرے اندرخزانہ جو گڑا ہے ہواروشن کہ اپنارخ کدھر تھا طمانچہ وقت نے ایسا جڑا ہے برائےمصلحت […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

ہوش اپنے نہیں ٹھکانے پر

ہوش اپنے نہیں ٹھکانے پر اورالزام ہے زمانے پر جائیے گر تو پوچھتے ہی نہیں سرزنش کی گئی نہ آنے پر وہ بھی مشق ستم پہ آمادہ ہم بھی راضی ہیں تیر کھانے پر اختراعات کا جواب نہیں قابل داد ہر بہانے پر تیرگی خود ہی چھٹ گئی ورنہ ہم تھے تیار گھرجلانے پر طاق نسیاں پہ تھا چراغ […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

جھوٹا سچ یا سچا جھوٹ

ان کتابوں کو باندھ کر پتھر پھینک آئو کسی کویئں میں تم جو پڑھا تم نے ان کتابوں میں کیا تمھیں زندگی میں کام آیا سچ بتانا کہ سچ کے بارے میں  جھوٹ کتنا لکھا ہے لوگوں نے اور نتیجے میں کر دیا کالا صاف ستھرے سفید کاغذ کو سچ کی توقیر تھی بہت پہلے […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

منزلوں کے نشاں ہوئے پتھر

منزلوں کے نشاں ہوئے پتھر یعنی حاجت روا بنے پتھر جب بھی سستانے کا مقام آیا سر کے نیچے جما لئے پتھر بھول سے مڑ کے ہم نے کیا دیکھا ایک لمحے میں ہوگئے پتھر بوجھ دل پر بھی جوں کا توں ہی رہا عقل پر بھی پڑےرہے پتھر ہار کر رکھ لئے ہیں انساں […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

ذہن و دل میں خلا سا لگتاہے

ذہن و دل میں خلا سا لگتاہے لفظ بھی نارسا سا لگتاہے پیش خیمہ ہے ابتلا ئوں کا مسئلہ یوں ذرا سا لگتا ہے جب وہ ماحول خوشگوار کرے پھول خوشبو ہوا سا لگتاہے قتل کے بعد وارثوں کا سلوک قاتلو خوں بہا سا لگتاہے ہے کرشمہ یہ ذات واحد کا فرد ہر اک جدا […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

یہ غلط ہے کہ سچ کہا نہ گیا

یہ غلط ہے کہ سچ کہا نہ گیا سچ تو یہ ہے کہ سچ سنا نہ گیا بات میری صدا بصحرا تھی مجھ سے خاموش بھی رہا نہ گیا کارواں ہوں گذرتا جاتا ہوں ساتھ میرے کوئی گیا نہ گیا میں تو بین السطور تھا موجود حیف مجھ کوکبھی پڑھا نہ گیا ہے تقاضا کہ […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

جو کیا ہم نے بیدلی سےکیا

جو کیا ہم نے بیدلی سےکیا کام کوئی نہیں خوشی سے کیا معرکے سر کئے تھے ہم نے بھی لیکن اظہار سادگی سے کیا دل لگانے میں جاں کو خطرہ ہے پھر بھی آغا ز دل لگی سے کیا

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

راستہ ایسے طے کیا جائے

راستہ ایسے طے کیا جائے ٹھوکروں سے سبق لیا جائے دل کی دنیا ہی جب خلاف ہوئی ایسے عالم میں کیا کیا جائے سانس لینا بھی جان لیوا ہے یعنی مر مر کے اب جیا جائے جو بھی آئے ادھیڑ کر جائے زخم دل کس طرح سیا جائے آندھیاں منہ چھپائے پھرتی ہیں سامنے انکے […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

شام غم کے اسیر ہیں ہم لوگ

شام غم کے اسیر ہیں ہم لوگ صبح نو  کے سفیر ہیں  ہم لوگ شہر قاتل میں حیثیت کیا ہے اہل دل کے مشیر ہیں ہم لوگ ایک  موہوم  سا  تصور ہیں ایک مدھم لکیر ہیں ہم لوگ بجھ گیا ہے چراغ گو دل کا پھر بھی روشن ضمیر ہیں ہم لوگ پھر ملے گا […]

مکمل تحریر پڑھنے کے لیئے کلک کریں

Previous Posts