منزلوں کے نشاں ہوئے پتھر

منزلوں کے نشاں ہوئے پتھر
یعنی حاجت روا بنے پتھر

جب بھی سستانے کا مقام آیا
سر کے نیچے جما لئے پتھر

بھول سے مڑ کے ہم نے کیا دیکھا
ایک لمحے میں ہوگئے پتھر

بوجھ دل پر بھی جوں کا توں ہی رہا
عقل پر بھی پڑےرہے پتھر

ہار کر رکھ لئے ہیں انساں نے
سجدہ کرنے کو سامنے پتھر

ہم نے دیکھے ہیں بے زباں انساں 
ہم نے دیکھے ہیں بولتے پتھر

کس نے پایا ہے گوہر مقصود
ہم تو جس جا گئے ملے پتھر

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*