یہ غلط ہے کہ سچ کہا نہ گیا

یہ غلط ہے کہ سچ کہا نہ گیا
سچ تو یہ ہے کہ سچ سنا نہ گیا

بات میری صدا بصحرا تھی
مجھ سے خاموش بھی رہا نہ گیا

کارواں ہوں گذرتا جاتا ہوں
ساتھ میرے کوئی گیا نہ گیا

میں تو بین السطور تھا موجود
حیف مجھ کوکبھی پڑھا نہ گیا

ہے تقاضا کہ ہو تراش خراش
کچھ بھی یاں جوں کا توں لکھا نہ گیا

ذہن اور دل میں تھی ٹھنی ایسی
ہونٹ تک حرف مدعا نہ گیا

کیسے للکارتا غنیم کو میں
آپ اپنے سے جب لڑا نہ گیا

شہر جاناں کے تھے عجیب طریق
دوقدم بھی امرچلا نہ گیا

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*