کہیں صحرا کہیں دریا پڑا ہے

کہیں صحرا کہیں دریا پڑا ہے
وہی وحشت،وہی کچا گھڑاہے

خلائوں کا سفر تم کو مبارک
مجھے ہرشام گھر جانا پڑا ہے

وہ خوددل کی عدالت میں تھاملزم

سواپناکیس خوداس نے لڑاہے

میں کیوں بیٹھاہوں اس پرسانپ بنکر

مرے اندرخزانہ جو گڑا ہے

ہواروشن کہ اپنارخ کدھر تھا

طمانچہ وقت نے ایسا جڑا ہے

برائےمصلحت سب متفق ہیں

جسےپرواہ نہیں کچھ، وہ اڑاہے

زمیں قدموں تلےرہنےنہ دیگا

زمانےکےمقابل کیوں کھڑاہے

امرؔ مجھ کو برائے خودکلامی

شناساخود سےبھی ہوناپڑاہے

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*