کھیل باقی ہے چند چالوں کا

کھیل باقی ہے چند چالوں کا
کوئی موقع   نہیں  سوالوں  کا

دل پہ اک زخم اورسہتاہوں
سینہ عادی ہوا ہے بھالوں کا

 نظر آؤ امید کی کرنو
آخری وقت ہے  اجالوں کا

کسمپرسی  کے دور میں  کیسے
کوئی ذمہ لےخستہ حالوں کا

بال وپرمیں رہی نہیں حرکت
خوف طاری ہےاتنا جالوں کا

 

 

 

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*