ہوش اپنے نہیں ٹھکانے پر

ہوش اپنے نہیں ٹھکانے پر
اورالزام ہے زمانے پر

جائیے گر تو پوچھتے ہی نہیں
سرزنش کی گئی نہ آنے پر

وہ بھی مشق ستم پہ آمادہ
ہم بھی راضی ہیں تیر کھانے پر

اختراعات کا جواب نہیں
قابل داد ہر بہانے پر

تیرگی خود ہی چھٹ گئی ورنہ
ہم تھے تیار گھرجلانے پر

طاق نسیاں پہ تھا چراغ امید
میں پریشاں ہوں بھول جانے پر

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*