شام غم کے اسیر ہیں ہم لوگ

شام غم کے اسیر ہیں ہم لوگ
صبح نو  کے سفیر ہیں  ہم لوگ

شہر قاتل میں حیثیت کیا ہے
اہل دل کے مشیر ہیں ہم لوگ

ایک  موہوم  سا  تصور ہیں
ایک مدھم لکیر ہیں ہم لوگ

بجھ گیا ہے چراغ گو دل کا
پھر بھی روشن ضمیر ہیں ہم لوگ

پھر ملے گا نہ سادہ دل ہم سا
فی زمانہ نظیر ہیں ہم لوگ

یاس و غم کی ہے گر کوئی قیمت
پھر تو سب سے امیر ہیں ہم لوگ

اک نظر کا سوال ہے تم سے
راہ چلتے فقیر ہیں ہم لوگ

تبصرہ کرنے کی سہولت بند ہے۔