سب حسینوں سے جدا ہے

سب حسینوں سے جداہےمیرا دلبر دیکھنا

دیکھنا کوئی نہیں اس کے برابر دیکھنا

 

دیکھنا میرا اسے یوں بیخودی میں دیرتک

اسکا اک پل ہی سہی، مجھکو نظربھردیکھنا

 

بجلیاں نطروں میں ہیں زلفیں گھٹائوں کی طرح

آگ لگتی ہے اسی موسم میں اکثردیکھنا

 

جب چلےگانازسےساحل پہ وہ نازک بدن

چوم لےگانقش پا اس کے سمندر دیکھنا

 

پیرہن یوں تو ہوا کے دوش پر لہرائیگا

ہو مخالف جب ہوا پھر اسکا پیکر دیکھنا

 

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*