راستہ ایسے طے کیا جائے

راستہ ایسے طے کیا جائے
ٹھوکروں سے سبق لیا جائے

دل کی دنیا ہی جب خلاف ہوئی
ایسے عالم میں کیا کیا جائے

سانس لینا بھی جان لیوا ہے
یعنی مر مر کے اب جیا جائے

جو بھی آئے ادھیڑ کر جائے
زخم دل کس طرح سیا جائے

آندھیاں منہ چھپائے پھرتی ہیں
سامنے انکے جب دیا جائے

تیرگی اک جگہ پہ ہے محصور
جا بجا دیکھئے ضیا جائے

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*