ذہن و دل میں خلا سا لگتاہے

ذہن و دل میں خلا سا لگتاہے
لفظ بھی نارسا سا لگتاہے

پیش خیمہ ہے ابتلا ئوں کا
مسئلہ یوں ذرا سا لگتا ہے

جب وہ ماحول خوشگوار کرے
پھول خوشبو ہوا سا لگتاہے

قتل کے بعد وارثوں کا سلوک
قاتلو خوں بہا سا لگتاہے

ہے کرشمہ یہ ذات واحد کا
فرد ہر اک جدا سالگتاہے

ہے اندھیرا سرنگ میں لیکن
دور جلتا دیا سا لگتاہے

کوئی صورت نہ کرسکی راضی
دل مراکچھ خفا سا لگتاہے

جانے کیا کچھ ہے مشترک ہم میں
اجنبی آشنا سا لگتاہے

اسکی ہر بات کو کھرا کہنا
نسخئہ کیمیا سا لگتاہے

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*