جھوٹا سچ یا سچا جھوٹ

ان کتابوں کو باندھ کر پتھر
پھینک آئو کسی کویئں میں تم

جو پڑھا تم نے ان کتابوں میں
کیا تمھیں زندگی میں کام آیا

سچ بتانا کہ سچ کے بارے میں 
جھوٹ کتنا لکھا ہے لوگوں نے
اور نتیجے میں کر دیا کالا
صاف ستھرے سفید کاغذ کو

سچ کی توقیر تھی بہت پہلے
پر یہ سچ آجکل نہیں چلتا
نوکری اس سے مل نہیں سکتی
پیار پروان چڑھ نہیں سکتا
کاروبار اس سے ہو نہیں سکتا
بول کر سچ بھری عدالت میں
چین سے کوئی سو نہیں سکتا

 

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*