اسکی گلیوں میں بار بار آیا

اسکی گلیوں میں بار بار آیا

بیخودی میں اسے پکار آیا

اسنے پاوٗں شباب میں رکھا

میرے گیتوں پہ بھی نکھارآیا

 جب بھی نظریں ملی ہیں ساقی سے

بن پئے ہی مجھے خمار آیا

وحشتِ دل مری بڑھی جب بھی

نام سے اسکے ہی قرار آیا

حاصلِ زندگی ہیں وہ لمحے

اسکی محفل میں جو گذار آیا

اپنا تبصرہ یہاں تحریر کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*